بھٹکل:29/جنوری (ایس او نیوز) ساحلی علاقے کے دیہی روایتی کھیل ’’کمبلا‘‘(کھیت کے کیچڑ میں بھینسوں کی دوڑ )پر چار سال تک پابندی کے بعد اب ریاستی حکومت نے پابندی نہ لگانے کا فیصلہ لیاہے۔ جس طرح تمل ناڈومیں ’’جلی کٹو‘‘ کو لے کر ریاستی حکومت نے قانو ن میں ترمیم کی ہے اسی طرح ریاست کرناٹکا میں بھی کمبلا کو روایتی کھیل کے زمرے میں شامل کرنے کا ریاستی حکومت نے فیصلہ لیا ہے۔اس فیصلے کے ساتھ ہی بھٹکل تعلقہ میں کمبلا کے لئے مشہور کونٹوانی میں کمبلا کی زندگی لوٹ آنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔
اترکنڑا ضلع میں بھٹکل کا کونٹوانی دیہات کمبلا کے لئے بے حد مشہور ہے، جہاں علاقہ کے عوام زرعی لیڈر سومیا گونڈا کی قیادت میں ہرسال کمبلا کو ایک تہوار کی طرح مناتے آئے ہیں، موجودہ ریاستی کابینہ کے وزراء رماناتھ رائی سمیت پڑوسی اضلاع اُڈپی اور منگلورو کے کمبلا کے شائقین لیڈران یہاں تشریف لاچکے ہیں، اترکنڑا ضلع کے کئی سیاست دان کونٹوانی کمبلا میں مہمان خصوصی کی فہرست میں اپنا نام درج کراچکے ہیں۔ زرعی لیڈر سومیا گونڈا بھٹکل میں کمبلا کے روح رواں مانے جاتے ہیں، اسی مناسبت سے سومیاگونڈا ’’کونٹوانی کمبلا سومیا گونڈا ‘‘ کے طورپر معروف رہے ہیں ، وہ بھٹکل کے کنٹوانی میں لگاتار 40سالوں سے کمبلا کو ایک تہوار کے طور پر منعقد کراتے رہے تھے، مگرچار سال قبل جب سپریم کورٹ اور ریاستی حکومت کی طرف سے کمبلا پر پابندی عائد کی گئی تو اُنہیں سخت مایوسی ہوئی۔ اُدھر پڑوسی ضلع اُڈپی اور مینگلور میں کمبلا کی منظوری کے لئے جدوجہد جاری تھی، جس کو دیکھتے ہوئے سومیا گونڈا نے دو سال تک انتظار کیا، مگر جب منظوری نہیں ملی تو بالاخر انہوں نے کمبلا کے لئے استعمال کی جانے والی زرخیز زمین پرباغبانی شروع کردی۔
ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی بیٹی نے بتایا کہ ان کے والد اپنے ذاتی خرچے پر ہرسال کمبلا کا روایتی کھیل منعقد کرتے آرہے تھے، مقابلے کے لئے کم و بیش پچاس ہزارروپیہ وہ اپنی جیب سے ادا کرتے تھے، مگر جب حکومت نے اس پر پابندی عائد کی تو ہم سب لوگوں نے اپنے والد کو مشورہ دیا کہ اس زمین پر باغبانی شروع کریں۔ جس کی بنا پر اب ہمارے والد نے اس زمین پر زراعت شروع کرتے ہوئے موز اور سپاری کے پودے لگاکر اسے باغ میں منتقل کردیا ہے۔
ساحل آن لائن کے نمائندوں نے کمبلا کے میدان کی تلاش کرتے ہوئے متعلقہ مقام پر پہنچے تو وہاں ہر طرف سبز ہ ہی سبزہ تھا اور میدان غائب ہوگیا تھا۔
اب جب کہ حکومت نے کمبلا کی شروعات کو لے کر دوبارہ ہری جھنڈی دکھائی ہے تو کُنٹوانی میں دوبارہ کمبلا کی باتیں شروع ہو گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے سومیا گونڈا نے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب حکومت نے کمبلا پر سے پابندی ہٹادی ہے تو ہم گاؤں والوں کے ساتھ صلاح ومشورہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کمبلا کے لئے استعمال ہونے والی زمین پر اب زراعت شروع کی گئی ہے، اس لئے اب مقابلے کے لئے دوسری زمین دیکھنی ہوگی۔
41ویں کمبلا مقابلے کے لئے 2017کا سال اب تیاری میںہے اس کے لئے صرف کُنٹوانی کے ہی عوام کونہیں بلکہ پورے تعلقہ کے کمبلا کے شائقین کو بڑی مسرت و خوشی ہوئی ہے۔
مقامی لوگوں سے پوچھے جانے پر کہ اس مقابلے کے لئے جانوروں پر ظلم کئے جانے کی بات میں کتنی صداقت ہے، عوام نے بتایا کہ کمبلا مقابلے میں پاڑے اوربھینسہ وغیرہ پر ظلم ہونے کی بات جھوٹی ہے، ہم ان جانوروں کی پرورش کرتے ہیں، اس لئے ہم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ درد کیا ہوتاہے، جانوروں کے درد کو وہ اپنا درد سمجھتےہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جلّی کٹّو میں جانوروں کو سوئی چبھوکر یا کسی اور طریقہ پر اُنہیں اُکسایا جاتا ہوگا، مگر کمبلا میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ہم بنا کچھ تکلیف دئے جانوروں کو بھگاتے ہیں۔